4 مارچ 2013 - 20:30

صہیونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتھن یاہو نے اسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک بار پھر بے بنیاد دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران، ایٹمی ریڈلائن کے قریب پہونچ گیا ہے ۔

ابنا: نتھن یاہو نے جو امریکہ میں صیہونی لابی کی آیپک کانفرنس میں ویڈیو خطاب کررہا تھا اپنی حکومت کے ایٹم بم ذخائر کی طرف اشارہ کرئے بغیر کہا کہ اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے ہمیں مغرب کی مدد سے ایران کا جوہری پروگرام روکنا چاہیئے ۔ اس نے کہا کہ مغربی ڈیپلومسی ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کے لئے مجبور نہیں کرسکا ہے اور اسی وجہ سے ایران ایٹمی ریڈلائن کے زیادہ قریب پہنچ گیا ہے۔صہیونی حکام ایسی حالت میں ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو دنیا کے ئے بڑا چیلنج قرار دینے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے معائنہ کاروں نے بارہا ایران کے ایٹمی مراکز کا معائنہ کرکے ایران کے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ دوسری طرف خود صہیونی حکومت نے کبھی بین الاقوامی اداروں کو اپنے ایٹمی تنصیبات کی اجازت نہیں دی ہے اور خود واضح طور پر اعتراف کیا ہے کہ اسکے پاس ایٹم بم کے ذخائر موجود ہیں۔